women-harassment-on-social-media

Beware of Women Harassment on Social Media

Social media has become a troubling platform where women are increasingly becoming victims of blackmail and sexual violence. Hackers, using fake social media accounts, have started to exploit young girls as well as married and divorced women by creating inappropriate images of them and then blackmailing them. These concerns were voiced by Muhammad Asad Rahman, a cyber security expert from Cyber Security of Pakistan, during an awareness campaign about the growing incidents of blackmail. He mentioned that many young girls from educational institutions have lost their dignity due to the traps set on social media. Several men pose as women to befriend girls through fake social media accounts and later misuse their pictures with the help of advanced technology. Some women suffer in silence when faced with such blackmail, while others may attempt suicide.

He suggested that social media users, particularly women, can protect themselves from blackmail by considering a few basic points: keep social media profiles private, refrain from sharing personal pictures on social media or even storing them on devices if they might be sent under pressure via Facebook or WhatsApp. Avoid sharing personal information such as mobile numbers, email addresses, and birth dates. Be wary of suspicious links received on WhatsApp, Twitter, or Facebook, as clicking on them can give hackers complete control over your devices and access to sensitive information like social media account details, bank accounts, and credit card information. Do not share your social media account details, like username, email, and password, even with close friends.

If your pictures are shared on social media without your consent or someone creates an account using your name or any other name to misuse your pictures, report the account to the social media platform’s administration and ask your friends to do the same. If someone attempts to blackmail you, first talk to your family members about it. Admit any mistakes to them and gain their trust. It’s better to face blackmail with your family’s support than to suffer in silence. Immediately report the matter to the FIA’s Cyber Wing so that they can take action against the culprits. The FIA Cyber Wing has established offices in major cities of Pakistan, including Karachi, Lahore, Islamabad, and Peshawar. Victims can file a complaint at their office or report online through the NR3C website.

Muhammad Asad Rahman mentioned that Cyber Security of Pakistan is also organizing lectures in colleges, universities, and other institutions to end the cycle of blackmail on social media.

سوشل میڈیا پر خواتین کو بلیک میلنگ کرکے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات تشویشناک ہیں۔ ہیکرز نے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ شادی شدہ اور طلاق یافتہ خواتین کی غیراخلاقی تصاویر بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ان خیالات کا اظہارسائبر سکیورٹی آف پاکستان کے سائبرایکسپرٹ محمداسدالرحمن نے خواتین کے بڑھتے ہوئے بلیک میلنگ واقعات کے متعلق آگاہی مہم میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے چکر میں تعلیمی اداروں کے کئی نوجوان لڑکیاں بھی اپنی عزت گنوا چکی ہے۔متعدد لڑکے اپنے آپ کو لڑکی ظاہر کرکے سوشل میڈیا جعلی اکاونٹس بنا کر دوستی کرتے ہیں اور بعدازاں مذکورہ لڑکیوں کی تصاویر حاصل کرکے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کا غلط استعمال کرتے ہیں۔بعض خواتین اس بلیک میلنگ کا شکار ہوکر چپ چاپ سب کچھ سہہ لیتی ہیں جبکہ بعض خواتین خودکشی کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سوشل میڈیا صارفین خاص طور پر خواتین چند بنیادی باتوں کا خیال کرکے بلیک میلنگ سے خود کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔سوشل میڈیا پر اپنا پروفائل پرائیویٹ رکھیں۔بعض خواتین اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر تو شیئر نہیں کرتیں لیکن اپنے کمپیوٹر یا موبائل میں ضرور رکھتی ہیں۔ لہذا کوشش کریں کہ کسی کے اصرار پر بھی فیس بک یا واٹس ایپ کے ذریعے تصاویر ارسال نہ کریں۔ آپ کی وہی تصاویر بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔ اپنے بارے میں معلومات بالکل فراہم نہ کریں جیسے کہ موبائل نمبر، ای میل ایڈریس اور تاریخ پیدائش وغیرہ۔واٹس ایپ، ٹویٹر یا فیس بک پر موصول ہونے والے مشکوک لنکس کھولنے سے گریز کریں۔ بعض لنکس ایسے ہوتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی ہیکرز آپ کے موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کا مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہیں اور آپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل سمیت بینک، کریڈٹ کارڈ اور دیگر حساس نوعیت کی معلومات ہیکرز کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات مثلا یوز رنیم، ای میل اور پاسورڈ وغیرہ اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ بھی شیئر نہ کریں۔اگر آپ نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں اور کوئی اور آپ کے نام سے یا کسی بھی نام سے اکاؤنٹ بناکر آپ کی تصاویر استعمال کرے تو خود بھی وہ آئی ڈی سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کو رپورٹ کریں اور اپنے دوستوں سے بھی کروائیں۔اگر کوئی آپ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرے توسب سے پہلے اپنے گھر والوں کے ساتھ اس بات کا ذکر کریں۔ اگر آپ سے بھی کوئی غلطی ہوگئی ہے تو اپنی غلطی گھر والوں کے سامنے تسلیم کرکے ان کو اعتماد میں لیں۔ گھر والوں سے بات چھپا کر بلیک میلنگ کا شکار ہونے سے بہتر ہے کہ آپ کے اہل خانہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔اس کے بعد سب سے پہلے ایف آئی اے کے سائبر ونگ کو رپورٹ کریں تا کہ وہ مجرموں کے خلاف کاروائی کر سکیں۔ایف آئی اے سائبر ونگ کے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور کے علاوہ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں دفاترقائم کر دیے گئے ہیں۔ دفتر میں جاکر شکایت کریں یاnr3c کی ویب سائٹ پر آن لائن رپورٹ کریں۔انہوں نے کہا کہ سائبر سکیورٹی آف پاکستان کہ جانب سے سوشل میڈیا کے حوالے سے کالجز ویونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں باقاعدہ لیکچرز کا انعقاد بھی کیاجا رہا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ کا سلسلہ ختم ہو سکے۔

Search