WhatsApp Security Concerns

WhatsApp Security Concerns

WhatsApp Messenger is considered the most widely used messenger in the world, with over a billion users globally. Despite being perceived as one of the safest means of online communication, WhatsApp Messenger is not immune to cyber-attacks. Cybersecurity expert Muhammad Asad Ul Rehman expressed these concerns while discussing cyber-attacks related to WhatsApp Messenger with the media. He mentioned that while WhatsApp was considered secure in the past, nowadays it is also prone to daily cyber-attacks.

One type of cyber-attack involves sending a compromised image or file, allowing hackers to inject viruses into any mobile device and gain access to its activities, including data. Additionally, various methods of WhatsApp hacking have been introduced, enabling both ordinary citizens and government officials to seize control of WhatsApp accounts and access their data. Rehman stated that clandestine agencies of hostile nations have acquired such capabilities, allowing them to access mobile phones, affecting users in more than 20 countries, including Pakistani users, with the assistance of an Israeli company’s spyware.

Therefore, senior government officials, especially those in sensitive positions, are advised not to send official documents via messaging apps like WhatsApp and to use their WhatsApp with the latest updates. WhatsApp users were urged not to click on any suspicious links, refrain from downloading files from unknown sources, and enable two-step verification to reduce the risk of account hacking.
WhatsApp Security Concerns
واٹس ایپ میسنجر پوری دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا میسنجر ہے جسکو پوری دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں۔آن لائن رابطے کا محفوظ ترین ذریعہ سمجھا جانے والا واٹس ایپ میسجنر بھی سائبر حملوں سے محفوظ نہیں۔ان خیالات کا اظہار سائبرایکسپرٹ محمداسدالرحمن نے واٹس ایپ میسنجر پر بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں واٹس ایپ کو محفوظ سمجھا جاتا تھا پر اب اس پر بھی آئے روز سائبر حملے ہو رہے ہیں۔ تصویر ی فائل کی ایک قسم گف فائل بھیج کر ہیکر کسی کے بھی موبائل میں وائرس ڈال کر اس کے سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ واٹس ایپ ہیکنگ کے اور بھی کئی طریقے متعارف کروا دیے گئے ہیں جن سے عام شہری و سرکاری افسران کے واٹس ایپ پر قبضہ کرکے ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے ایسی صلاحیت حاصل کر لی جس کی مدد سے موبائل فون تک رسائی ہو سکتی ہے اور ایک اسرائیلی کمپنی این ایس او کے سپائی وئیر کی مدد سے 20 سے زائد ممالک میں صارفین متاثر ہوئے ہیں جس میں پاکستانی صارفین بھی شامل ہیں۔ لہذاوہ سینیئر حکومتی اہلکار جو کہ حساس عہدوں پر فائز ہیں وہ میسیجنگ ایپ واٹس ایپ پر سرکاری دستاویزات نہ بھیجیں، اپنے واٹس ایپ کو تازہ ترین اپ ڈیٹ کے ساتھ استعمال کریں۔انہوں نے واٹس ایپ صارفین کو تلقین کی کہ وہ کسی قسم کہ لنک پر کلک نہ کریں،کسی انجان ذرائع سے آنے والی فائلز کو بھی ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں اور ٹو اسٹیپ ویری فیکیشن کو آن کر کے اکاؤنٹ ہیک ہونے کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
WhatsApp Security Concerns

Search