Cybercrime on the Rise During Pandemic

Cybercrime on the Rise During Pandemic

Cybercriminals are active during the coronavirus pandemic, cybercrime is increasing day by day. The public has been warned to be wary of fake phone calls and not to provide their personal and financial information to anyone, as cybercriminals can use this information to commit crimes in your name or withdraw money from your accounts and deprive you of your life savings.

These views were expressed by Muhammad Asad Ul Rehman, a cyber expert at Cyber Security of Pakistan, while informing the public about how to avoid cybercrime during the coronavirus pandemic. He said that the FIA’s Cyber Crime Wing, which was created to deal with cybercrime in Pakistan, is also active and is working to arrest such criminals by tightening the noose on them.

However, to control this growing evil in the society, the public will have to cooperate with the concerned agencies. The public should be wary of fake phone calls and should not share the code that comes via SMS. Using this code, WhatsApp can be created on your number and used for criminal activities. In addition, use strong passwords for your accounts and keep changing them from time to time.

He further said that these days cybercriminals are making fake phone calls to people on behalf of banks and obtaining their personal information and withdrawing money from their bank accounts and other cash accounts. The public is warned that you will never be called by a bank or cash account representative to ask for your details. Immediately report such fake phone calls to the relevant authorities so that action can be taken against these criminals.
Cybercrime on the Rise During Pandemic
کورونا وبا کے دوران سائبر کرمنلز متحرک، سائبر جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عوام الناس کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ جعلی ٹیلی فون کالوں سے ہوشیار رہیں اور اپنی ذاتی و مالی کوائف کسی کو بھی فراہم نہ کریں کیونکہ کہ آپ کی ذاتی ومالی کوائف کی معلومات کو استعمال میں لاتے ہوئے سائبر کرمنلز آپ کے نام استعمال کرتے ہوئے مجرمانہ کاروائی کرسکتے ہیں یا پھر آپ کے اکاؤنٹس سے پیسے نکال کے آپ کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سائبرسکیورٹی آف پاکستان کے سائبرایکسپرٹ محمداسدالرحمن نے کورونا وبا کے دوران بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے بچنے کے لیے عوام الناس کو مطلع کرتے ہوئے کیا۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستان میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ بھی متحرک ہے اور ایسے جرائم پیشہ افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کو گرفتار کرنے میں کوشاں ہے لیکن معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس ناسور پہ قابو پانے کے لیے عوام کو متعلقہ اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔ عوام الناس کو چاہیے کہ جعلی فون کالز سے ہوشیار رہیں اور بذریعہ ایس ایم ایس آنے والے کوڈ کسی کو نہ بتائیں۔ اس کوڈ کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے نمبر پہ واٹس ایپ بنا کر اسے مجرمانہ کاروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اپنے اکاؤنٹس کے لیے مضبوط پاسورڈ کا استعمال کریں اور وقتا فوقتا تبدیل کرتے رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دنوں سائبر کرمنلز بینک کی جانب سے لوگوں کو جعلی فون کالز کر کے ان کے کوائف کی معلومات حاصل کرتے ہوئے ان کے بینک اکاؤنٹس و دیگر کیش اکاؤنٹس سے پیسے نکال لیتے ہیں۔ عوام کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آپ کو کبھی بھی بینک یا کسی کیش اکاؤنٹ کا نمائندہ کال کر کے تفصیلات پوچھنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایسے جعلی فون کالز کے متعلق فورا متعلقہ اداروں کو رپورٹ کریں تا کہ ان مجرموں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔

Cybercrime on the Rise During Pandemic

Search